|
بادشاہت نہیں چلے گی...کڑوا سچ…طارق بٹ
عدالت عظمیٰ کا حالیہ فیصلہ جس میں 54 افسران کی گریڈ 22 میں ترقی کو کالعدم قراردیا ہے، تاریخی ہے۔ اس فیصلے کا لب لباب یہ ہے کہ صوابدیدی اختیارات کو بھی اگر صحیح استعمال نہ کیا جائے تو یہ قانون کی نظر میں کالعدم ہے۔ اگر وزیراعظم نے ایک ہی بار 54 افسران کو گریڈ 22 میں ترقی دے کر ایک نئی تاریخ رقم کی تھی تو سپریم کورٹ نے ان ترقیوں کو خلاف قانون قرار دیکر کچھ کم تاریخی کام نہیں کیا۔ مشرف دور میں ان پر الزام تھا کہ انہوں نے بطور قومی اسمبلی کے اسپیکر بے شمار بھرتیاں کیں جس میں میرٹ نام کی کسی چیز کا خیال نہ رکھا گیا تھا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم پرانی غلطیوں کو دہراتے رہتے ہیں تاہم وزیراعظم کا یہ بیان کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور اس پر عملدرآمد کریں گے، خوش آئند ہے۔ اس طرح کے طرز عمل کے خلاف اگر وہ ایسا رویہ اختیار کرتے جیسے صدارتی کیمپ سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں پر اختیار کررہا ہے تو یقیناً تصادم اور ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوجاتی۔ مہذب اقوام میں عدالتوں کے فیصلوں کے آگے چاہے وہ حکومت وقت کیلئے کتنے ہی کڑوے کیوں نہ ہوں سر تسلیم خم کیا جاتا ہے جس سے اداروں کی عزت اور توقیر میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے ، قانون کی حکمرانی ہے اور جنگل کا قانون نہیں کہ جو چاہے اٹھے اور عدالتوں کے فیصلوں کو چیلنج کرنا شروع کر دے۔ اس میں کچھ شک وشبہ نہیں کہ وزیراعظم کو صوابدیدی اختیارحاصل ہے کہ وہ گریڈ 21 سے گریڈ 22 میں افسران کی ترقیاں کریں مگر اس کے ساتھ ساتھ جس امرکی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ انہیں ہر افسر جس کو نظر انداز کیا جاتا ہے کیلئے وجوہات دیں کہ اس میں کیا کیا خامیاں تھیں۔ پچھلے سال جب یہ ترقیاں کی گئیں اور 173 کے لگ بھگ افسران کو نظرانداز کر دیا گیا تو بیورکریسی میں ایک کھلبلی مچ گئی تھی اور بے شمار افسروں کے چہرے سوج گئے تھے کہ وزیراعظم نے کیا کر دیا اور کیوں اتنے بڑے پیمانے پر میرٹ ، سنیارٹی اور شفافیت کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اس وقت ہی یہ ظاہر ہوگیا تھا کہ یہ معاملہ یقیناً عدالت عظمیٰ کے سامنے آئے گا ۔ آخر کار یہی ہوا۔ اگر ان ترقیوں پر نظر ڈالی جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے صرف ان افسران کو پروموٹ کیا گیا جو یا تو ایسی جگہوں پر تعینات تھے جہاں اس طرح کے فیصلے ہوتے ہیں یا ان کی حکمرانوں کے ساتھ بڑی قربت تھی۔اکثریت کی ترقی میں یہی عوامل کارفرما تھے۔ اب ان حضرات کو صحیح سزا مل گئی ہے وہ نہ صرف واپس اپنے پہلے والے گریڈ میں آگئے ہیں بلکہ انہیں وہ تمام سہولتیں بھی واپس کرنا پڑیں گی جو انہوں نے اس عرصہ میں گریڈ 22 کے افسر ہونے کی حیثیت میں حاصل کی تھیں جس میں تنخواہ میں اضافہ اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ بھی شامل ہے ۔اب یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ترقیوں کے اگلے راؤنڈ میں یہ سب لوگ پروموشن لے سکیں۔ یقیناً اب وزیراعظم احتیاط برتیں گے اور ان 173 بیوروکریٹس کو بھی زیر غور لائیں گے جن کو پہلے بلاوجہ نظرانداز کر دیا گیا تھا۔ یہ کہاں کا اصول تھا کہ اس وقت کے چاروں صوبائی چیف سیکرٹریوں اور چاروں انسپکٹر جنرل آف پولیس کو گریڈ 22 میں ترقی دے دی گئی ۔ یہ کیسا اصول تھا کہ بہت سے افسروں کو اعلیٰ گریڈ میں لے جایا گیا صرف اس وجہ سے کہ وہ پہلے ہی گریڈ 22 والی پوسٹوں پر کام کر رہے تھے۔ واقف حال جانتے ہیں کہ جب پچھلے سال وزیراعظم ایک غیر ملکی دورے سے واپس کراچی پہنچے تھے تو ان کے سامنے ان 54/افسران کی فائل رکھ دی گئی جس پر انہوں نے بغیر سوچے سمجھے دستخط کر دیئے تھے۔ کسی بھی مرحلے پر مناسب غورخوض نہیں کیا گیا کہ کس افسر کو کیوں ترقی دی جارہی ہے اور کس بیوروکریٹ کو کیوں نظرانداز کیا جارہا ہے۔ بعض کیسوں میں ایسا بھی ہوا تھا کہ کچھ افسران کو دو تین ماہ قبل ہی گریڈ 20سے 21میں ترقی دی گئی تھی پھر انہیں فوراً ہی گریڈ 22 میں پروموٹ کر دیا گیا تھا۔پہلے کبھی بھی ایسا پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہوا اور نہ ہی کسی اور ملک میں اس طرح کی ناجائز ترقیاں ہوئی تھیں۔ترقی پانے والے بعض افسران اب ریٹائرڈ بھی ہوچکے ہیں لہٰذا ان کے بارے میں یہ تصور کیا جائے گا کہ وہ گریڈ 21 ہی میں ریٹائر ہوئے۔ ان ترقیوں سے جن 173 بیوروکریٹس کی سنیارٹی متاثر ہوئی تھی ان میں 41 ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ، 39 آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس، 18 فارن سروس، 10 انکم ٹیکس اور تین انفارمیشن گروپ کے افسران شامل تھے۔ عدالت کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ انتظامیہ کی پارسائی کا بڑی حد تک خدمات کی ادائیگی پر انحصار ہوتا ہے اگر اقربا پروری اور جانبداری کے بغیر آئین اور قانون کے تحت ہی میرٹ پر ترقیاں دی جائیں تو ایسی صورت میں یہ پارسائی حاصل ہوسکتی ہے۔ اگر ایک طرف عدالتی فیصلے سے 54 افسران سخت پشیمانی کا شکار ہوئے ہیں تو بہت سے بیورو کریٹس بشمول 173 حضرات میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اب انہیں یقین ہے کہ ان کے ساتھ بھی انصاف ہوگا۔ جس انداز میں وزیراعظم نے یہ ترقیاں کیں وہ بیورو کریسی کو تباہ کرنے کے مترادف تھا ۔ اچھا ہوا ان کا فیصلہ کالعدم قرار پایا۔ اب بہتری کی امید کی جاسکتی ہے ۔ صدارتی کیمپ اس فیصلے کو مختلف نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اب وزیراعظم کو بھی یقین ہو جائے گا کہ عدالت عظمیٰ کی انتظامی معاملات میں مداخلت بہت بڑھ چکی ہے اور وہ منتخب حکومت کو اپنے عوامی مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے نہیں دے رہی۔ |