| معصوم وزیراعظم!.. |
|
کسی سے منصفی چاہیں…انصار عباسی
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بابر اعوان کے لاء چیمبر سے منسلک ایک جونیئر وکیل مسعود چشتی کو سیکرٹری قانون جیسے اہم ترین عہدے پر گزشتہ ہفتہ ایک ایسے وقت میں تعینات کیا جب سپریم کورٹ نے وزارت قانون کو سوئس مقدمات کھولنے کے ضمن میں وزیراعظم کو گمراہ کرنے کی بات کی۔اس تعیناتی سے وزیراعظم نے سپریم کورٹ کے اس اندازے کو غلط ثابت کر دیا کہ وہ معصوم ہیں اور بابر اعوان کے بہکانے پر گمراہ ہو سکتے ہیں۔ اسی طرز کی ”معصومیت“کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے اعلیٰ کردار کے مالک پولیس افسر طارق کھوسہ کو بینک آف پنجاب کیس کا انکوائری افسر مقرر کرنے سے محض اس لیے انکار کر دیا کیوں اس کی سفارش سپریم کورٹ نے نیب چیئر مین کی تجویز پر کی تھی تاکہ اس فراڈ میں شامل اصل چہروں کو بے نقاب کیا جا سکے۔ بہانہ یہ بنایا گیا کہ طارق کھوسہ بحیثیت سیکرٹری نارکوٹکس ایک اہم ذمہ داری ادا کر رہے ہیں اس لئے ان کو نیب کی انکوائری کیلئے فارغ نہیں کیا جا سکتا۔ یاد رہے کہ نارکوٹکس ڈویژن ایک غیر اہم ادارہ ہے جس کے پاس کوئی خاص سرکاری کام نہیں ہوتا۔ طارق کھوسہ کا نام ردکرتے ہوئے وزیراعظم نے تین افسروں کا ایک پینل سپریم کورٹ کے سامنے حکومت کی طرف سے پیش کر دیا کہ ان میں سے کسی بھی ایک افسر کو بینک آف پنجاب کیس میں انکوائری افسر لگایا جا سکتا ہے۔ اس پینل کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرنے کی اجازت دیتے ہوئے ہمارے ”معصوم“ وزیراعظم یہ حقیقت بھول گئے کہ جن تین افسروں کے نام تجویز کیے گئے وہ انتہائی اہم ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ ان افسران میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار کراچی کے سی سی پی او ، دہشت گردی کا نشانہ بننے والے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا سامنا کرنے والے صوبہ پنجاب کے ایڈیشنل آئی جی شامل ہیں۔ وزیراعظم چاہے جو کہیں، یہ سچ سب پر عیاں ہے کہ طارق کھوسہ کو اس لئے انکوائری سے علیحدہ رکھا گیا کہ کہیں وزیرقانون بابر اعوان کے خلاف ساڑھے تین کروڑ روپیہ رشوت لینے کا الزام ثابت نہ ہو جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بابر اعوان کے ساتھ سراسر زیادتی ہو گی کیونکہ کرپشن، بدعنوانی، اقربا پروری، جھوٹ اور فراڈ تو اب رواج بن چکے ہیں اور ان ”خوبیوں“ کے مالک افراد کو سزا کی بجائے حکومت میں انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہے۔ اب تو حالات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو بھی یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومت عدالت عظمیٰ سے مسلسل جھوٹ بول رہی ہے۔ ایک جج صاحب نے یہ بھی کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہم سب بہت بڑے نقصان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔مگر ہمارے حکمران ہر فکر سے بے نیاز پاکستان اور اس کے تمام اداروں کو تباہی کی طرف دھکیلنے میں مگن ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت جمہوریت کے نام پر جمہوریت دشمنی کی روش اختیار کیے ہوئے ہے جس میں وزیراعظم گیلانی کا انتہائی اہم کردار ہے۔ چاہے اہم حکومتی عہدوں پر انتہائی متنازعہ تعیناتیاں ہوں یا سرکاری اداروں میں بڑھتی ہوئی کرپشن، عدالتی فیصلوں کی حکم عدولی کی بات ہو یا ناقص حکمرانی، وزراء کی نااہلی ہو یا اداروں کی تباہی ، تمام تر ذمہ داری وزیر اعظم پر آتی ہے۔ مگر یہاں تو کسی کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہی نہیں۔ جب احساس دلانے کی کوشش کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے حکومت کے خلاف سازش کی جا رہی ہے۔چاہے کچھ بھی کرتے پھریں ان کا کہنا ہے کہ عوام نے انہیں پانچ سال کے لیے حکمرانی کا مینڈیٹ دیا ہے اوریہ کہ صرف عوام ہی اگلے قومی انتخابات میں ان کا احتساب کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ قانون کی بے شک دھجیاں اڑائیں، کرپشن چاہے کتنی ہی کر لیں، اعلیٰ ترین عدلیہ کے احکامات اور فیصلوں کا کیوں نہ کتنا ہی مذاق اڑائیں، اقرباء پروری کی کیسی بھی حدوں کو چھو لیں ، ملک کا چاہے کیسا ہی حال کر دیں،عوام سے کیے گئے وعدوں کو بے شک یکسر بھول جائیں اس حکومت اور حکمران ٹولے کو پانچ سال ہر حال میں پورا کرنے ہیں کیونکہ ان کی نظر میں یہی جمہوریت ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک ایک تاثر یہ پایا جاتا تھا کہ صدر زرداری اور ان کے مبینہ کرپٹ مشیر، وزیر اعظم گیلانی اور ان کی حکومت پر حاوی ہیں اور ان کو غلط کام کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ مگر اٹھارویں ترمیم کے بعد تمام تر اختیارات حاصل ہونے کے باوجود گیلانی کے اسلوب حکومت میں ذرا برابر بھی بہتری نظر نہیں آ رہی۔ بظاہر ہمارے میٹھے اور دھمیے وزیراعظم جن سے بہت سے لوگوں کو بہتری کی امید تھی نے بار ہا ثابت کیا کہ وہ اُس حکومتی ٹولے کا اہم ترین رکن ہیں جو پورے سسٹم کو ایک ایسی تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے جس کی وجہ سے سپریم کورٹ کے جسٹس جواد خواجہ کو یہ کہنا پڑا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہم بہت بڑے نقصان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ محسوس ایسا ہوتا ہے جیسے ہمارے حکمرانوں کو پاکستان کا خیال ہے اور نہ ہی اس کے بدقسمت عوام کا۔ ان کو جمہوریت سے دلچسپی ہے اور نہ ہی سسٹم کو بچانے میں۔ ان کے لئے کرپشن اور اقرباء پروری پریشانی کا باعث ہے اور نہ ہی ایک کے بعد ایک حکومتی اداروں کا گرنا۔ اگر ان کو ملک و قوم کا خیال ہوتا تو پاکستان اسٹیل کے لئے 25 ارب روپے کا بیل آؤٹ پیکج منظور کرنے سے پہلے وزیراعظم صاحب اس مل کی لوٹ مار کرنے والے بااثر افراد کو نشانہ عبرت بناتے اور اسٹیل مل کو ایک ایسے غیر جانبدار اور اہل چیئرمین کے سپرد کرتے جو اس قومی خزانہ کو تباہی سے بچا کر منافع بخش ادارہ بنا سکتا۔ اگر حکمرانوں کو قومی اداروں سے کوئی دلچسپی ہوتی تو وہ ریلوے، سوئی گیس، پی آئی اے اور دوسری کئی کارپوریشنز اور حکومتی محکموں میں نقصان کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں اپنے من پسند افراد کی تعیناتیاں نہ کرتے کیونکہ ان بے جا تعیناتیوں کی وجہ سے پہلے سے نقصان میں جانے والے ادارے مزید خسارے میں چلے گئے جبکہ کچھ منافع بخش محکموں کو بھی اب مالی بدحالی کا سامنا ہے۔ کیا ہمارے صدر مملکت، وزیراعظم، وزراء، مشیران یا حکومت میں شامل دوسرے بااثر افراد کبھی اپنے ذاتی کاروبار کو اس انداز میں چلانے کے لیے کسی طور پر بھی راضی ہوں گے جس طرح وہ حکومتی اداروں کو چلا رہے ہیں۔ کیا وہ کبھی یہ مناسب سمجھیں گے کہ نقصان کے باوجود اپنے ذاتی کاروبار اور صنعتوں میں مزید بھرتیوں اور کرپشن کی اجازت دیں اور کرپشن کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ اطلاعات کے مطابق صدر زرداری‘ وزیراعظم گیلانی اور حکمران طبقہ میں شامل اور دوسرے کئی افراد کے اپنے ذاتی کاروبار اور مالی حالات توگزشتہ دوسالوں میں بہت بہترہوئے۔ صدرزرداری توپہلے ہی اربوں کے مالک تھے، رحمن ملک کا بھی خوب کاروبار چل رہا تھا۔ اب توہمارے معصوم وزیراعظم کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ ان کے مالی حالات بھی کافی آسودہ ہوچکے ہیں۔ وفاقی وزراء کی ایک بڑی تعداد، صوبائی وزراء اعلیٰ اور وزیروں‘ مشیروں کے بارے میں بھی کہاجاتا ہے کہ ماشاء اللہ ان کے کاروبار بھی خوب چل رہے ہیں اور بہت سوں کے بارے میں توکہاجارہا ہے کہ آجکل ان کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔ نقصان محض پاکستان کاہورہا ہے۔ قومی ادارے تباہ ہو رہے ہیں۔ حکمران خوشحال جبکہ عوام پریشان اور بدحال ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی مشکلات میں روزبروزاضافہ ہورہا ہے ۔مگر ملک، قومی اداروں اور عوام کی کسے فکرہے؟ |























