| پاکستان کے قدرتی وسائل سے قرضوں کی ادائیگی ممکن ہے ، لیکن حکومتیں نا اہلی کا ثبوت دیتی ہیں |
|
گزشتہ دور حکومت میں صوبہ بلوچستان کی حکومت نے ایک کینیڈین ۔چلین جوائنٹ وینچر کمپنی کے ساتھ 40 ارب ڈالر کا ایک معاہدہ کیا جس کے تحت یہ بین الاقوامی کمپنی بلوچستان میں موجود تانبے اور سونے کے ذخائر کی تلاش شروع کرکے 30 سال تک ملک کو خام مال کی شکل میں ایکسپورٹ کرسکے گی جبکہ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کے مطابق اگر ہم اس منصوبے میں اسمیلٹر لگاکر خام مال (Ore)سے تانبہ اور سونا نکال کر ایکسپورٹ کریں تو اس کی قیمت 40 ارب ڈالر کی بجائے 500 ارب ڈالر بنتی ہے۔ بین الاقوامی جوائنٹ وینچر کمپنی سے جب وزیر خزانہ شوکت ترین نے اس منصوبے میں اسمیلٹر لگانے کے لئے کہا تو کمپنی کے حکام نے معاہدے کی رو سے انکار کردیا اور کہا کہ ”ہمارا کام صرف کان سازی کرنا ہے ۔“دراصل ان کے انکار کی اصل وجہ 460 ارب ڈالر کے منافع کو ہڑپ کرنا تھا۔ پاکستان میں دنیا کے تیسرے بڑے کوئلے کے ذخائر موجود ہیں جن کی مقدار تقریباً 185 ارب ٹن ہے۔ ماہرین کے مطابق ہمارے کوئلے کے ذخائر کی مالیت سعودی عرب اور ایران کے مجموعی تیل کے برابر ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر تیل کی قیمت 50 ڈالر فی بیرل بھی ہو تو بھی ہمارے کوئلے کے ان ذخائر کی مالیت 30 کھرب ڈالر ہے جو پاکستان کی موجودہ جی ڈی پی سے 187 گنا سے بھی زائد ہے۔
ہماری یہ بدنصیبی ہے کہ دنیا کے تیسرے بڑے تھرکول میں کوئلے کے ذخائر، دنیا کے پانچویں بڑے سونے اور تانبے کے ذخائر، دنیا کا چوتھا بڑا کاٹن پیدا کرنے والا ملک اپنے قومی وسائل کو استعمال نہ کرکے آج قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور دسمبر 09 ء تک ہمارے بیرونی قرضے 55.68 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جو جون 08ء میں 46.16 ارب ڈالر تھے اور جون03ء میں 32.93 ارب ڈالر تھے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ 6 سالوں میں قرضوں کے حجم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ بڑھتا ہوا امپورٹ ایکسپورٹ فرق (تجارتی خسارہ) کیونکہ ہم نے لگژری گڈز کی امپورٹ زیادہ کی اور ایکسپورٹ نہ بڑھاسکے۔ اسی طرح بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لئے نئے قرضے لیتے ہوئے ہم بیرونی قرضوں کے شکنجے میں پھنس گئے ہیں۔ پاکستان 1947ء میں آزاد ضرور ہوگیا تھا لیکن معاشی طور پر ہم ابھی تک آزاد نہیں ہوئے۔ آج بھی ہم آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اور مالیاتی اداروں کی ہدایت پر اپنی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں جو بسا اوقات ہماری ملکی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ حکومت کا کام ہے کہ اپنے قومی وسائل کو سستے داموں بیچنے کے بجائے دانشمندی سے اس دولت کو ملک کی ترقی کے لئے استعمال کرے اور قرضوں کے اس بوجھ سے نکلنے کی حکمت عملی بنائے جس پر آنے والی حکومتوں کو عمل کرنے کا پابند بنایا جائے۔
Source: Article Written by Dr. M. Ikhtiar Baig for Jang News |
























