• An Image Slideshow
  • An Image Slideshow
  • An Image Slideshow
پیر, 06 ستمبر 2010
جنرل کیانی کی توسیع، ضرورت کیوں پیش آئی

پاکستان کے وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدتِ ملازمت میں اچانک تین سال کی توسیع کا اعلان کیا ہے جس پر سیاسی حلقوں میں حیرانی ظاہر کی جا رہی ہے۔

جنرل کیانی کی ملازمت میں توسیع کی خبریں تو کئی ماہ سے گردش کر رہی تھیں لیکن یہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اُن کی مدت میں ’فل ٹرم‘ یعنی تین سال کی توسیع ہوگی۔

اگرچہ جنرل کیانی کو رواں برس اٹھائیس نومبر کو ریٹائر ہونا ہے لیکن اُن کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا اعلان اُن کی ریٹائرمنٹ سے چارہ ماہ قبل ہی کردیا گیا ہے۔

جس طرح اچانک اور مختصر خطاب میں وزیرِاعظم نے آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع کا اعلان کیا اِس سے محسوس ہوتا ہے کہ اُن کے لیے ’ایمرجنسی میں ایسا کرنا ضروری ہوگیا تھا‘۔

واضح رہے کہ رواں برس اکتوبر میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید ریٹائر ہونے والے ہیں لیکن اُن کی ملازمت میں توسیع کا ذکر نہیں کیا گیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کی جگہ نئی تعیناتی ہوگی۔

جنرل کیانی کی اٹھائیس نومبر کو ریٹائرمنٹ کی صورت میں بری فوج کے سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرل شمیم وائن ہیں جنہیں آرمی چیف بننا تھا لیکن اب اُن کے لیے ایسا ممکن نہیں رہا۔

البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اُن کی رضامندی سے اُنہیں وائس چیف آف آرمی سٹاف بنایا جاسکتا ہے یا جنرل طارق مجید کی جگہ اُنہیں نیا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کیا جائے یا پھر وہ فوجی روایات کے مطابق مستعفی ہوجائیں۔

وزیرِاعظم نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جنرل کیانی کے مثبت کردار کی وجہ سے اُن کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا اعلان صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی مشاورت سے کیا ہے۔ لیکن یہ اعلان امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کے دورے کے محض اڑتالیس گھنٹوں کے اندر سامنے آیا ہے۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک وفاقی وزیر نے بتایا کہ اُن کی حکومت نے جنرل کیانی کی ملازمت میں توسیع سوچ سمجھ کر اور اُن کی جانب سے فوج کو سیاسی معاملات سے الگ تھلگ رکھنے کی بنیاد پر کیا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو یہ حقیقت ہے کہ ججوں کی بحالی، کیری لوگر بل، عدلیہ اور حکومت میں تناؤ سمیت موجودہ حکومت کے تقریباً اڑھائی سالہ دور میں جو بھی بحران سامنے آئےاس میں فوج نے براہ راست مداخلت کی بجائے ’محدود مداخلت‘ کو ترجیح دی اور شاید جنرل کیانی کی یہی ادا حکومت کو پسند بھی آئی ہو۔

حکومت کے سامنے یہ پہلو بھی ہوگا کہ ہوسکتا ہے کہ جنرل کیانی کی جگہ نیا آنے والا جرنیل شاید اس بُردباری کا مظاہرہ نہ کرے اور وہ اُن کے لیے نیا ضیاء الحق نہ بن جائے۔

ویسے بھی جنرل کیانی سے صدر آصف علی زرداری کی شناسائی سنہ انیس سو اٹھاسی سے ہے جب بینظیر بھٹو کی پہلی وزارتِ اعظمیٰ میں وہ اُن کے نائب ملٹری سیکریٹری تھے۔

واضح رہے کہ یہ جنرل کیانی ہی تھے جو بطور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی طرف سے بینظیر بھٹو سے بات چیت کرتے رہے۔

جنرل کیانی جب آرمی چیف بنے تو فروری سنہ دو ہزا آٹھ کے انتخابات اور اس کے بعد حکومت سازی کے معاملات میں جہاں فوج سیاست سے دُور رہی وہیں پرویز مشرف کو صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے مجبور کرنے جیسے معاملات میں بھی جنرل کیانی بظاہر غیر جانبدار رہے۔

یاد رہے کہ جنرل کیانی پہلے فوجی جرنیل ہیں جنہیں کسی جمہوری حکومت نے ملازمت میں توسیع دی ہے۔اِس سے پہلے ایوب خان، ضیاءالحق اور پرویز مشرف خود ہی اپنے آپ کو توسیع دیتے رہے۔

 

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پیپلز پارٹی کے کبھی بھی فوج سے اچھے تعلقات نہیں رہے لیکن سابق وزیراعظمِ بینظیر بھٹو نے انیس سو اٹھاسی میں اُس وقت کے فوجی سربراہ اسلم بیگ کو جمہوریت کا تمغہ دیا تھا۔

بے نظیر نے جنرل وحید کاکڑ کو ملازمت میں توسیع کی پیشکش کی تھی جو انہوں نے قبول نہیں کی تھی اوراب اُن کی جماعت نےجنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی ہے۔

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حکومتی فیصلے کے بارے میں تمام کور کمانڈرز کواعتماد میں لیا ہے۔

لیکن بعض دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ جنرل کیانی کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے اعلیٰٰ فوجی افسران میں بددلی ضرور پیدا ہوگی کیونکہ جنرل پرویز مشرف کے لمبے عرصے تک فوجی سربراہ رہنے سے کئی افسران کے خواب چکنا چور ہوگئے تھے۔

ایسی رائے رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جب امریکہ دنیا کے کئی محاذوں پر لڑنے کے باوجود اپنے فوجی سربراہان کی مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں کرتا اورحال ہی میں جنرل سٹینلے میک کرسٹل کو فارغ بھی کردیا گیا تو اس سے کون سی ایسی قیامت آگئی کہ جنرل کیانی کے ریٹائر ہونے سے پاکستان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا ہوتا۔

 
  • An Image Slideshow
  • An Image Slideshow
  • An Image Slideshow